52

پاکستان سے جرمنی انسانی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کرنیوالے گروپ کا انکشاف

پاکستان سے جرمنی انسانی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کرنیوالے گروپ کا انکشاف
رفیق احمد جرمنی میں پاکستان سے منی لانڈرنگ اور انسانی سمگلنگ کرتا ہے اور اس گروہ میں اسکا بھائی اور دو کزن بھی شامل ہیں
تحقیقات جاری‘ اشٹام پیپرز کو تصدیق کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے حقائق کی روشنی میں کارروائی کی جائیگی‘ایف آئی اے پاکستان
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)پاکستان سے منی لانڈرنگ کرنے والے آزاد کشمیر کے ایک بڑے گروہ کا انکشاف ہوا ہے انتہائی ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ نیٹ ورک پاکستان سے جرمنی میں میں ہر سال کروڑوں ڈالر کی منی لانڈرنگ یا حوالہ ہنڈی کا استعمال کرتے ہیں اور اس کے علاوہ وہ انسانی سمگلنگ میں بھی ملوث ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ جرمنی میں کئی سالوں سے رہائش پذیر رفیق نامی شخص جس کا تعلق کوٹلی آزاد کشمیر سے بتایا جاتا ہے وہاں پر ایک پاکستانی ریسٹورنٹ چلاتا ہے اسی بنا پر وہ اپنا تعلق استعمال کرتے ہوئے پاکستان سے سے کروڑوں ڈالر کی منی لانڈرنگ یا حوالہ ہنڈی کا استعمال کرتے ہیں جنگ کودستیاب دستاویزات کے مطابق اس کا حقیقی بھائی نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے کروڑوں ڈالر پاکستان سے باہر بھجوائے ہیں ۔عتیق احمد ولد محمد صدیق احمد شناختی کارڈ نمبررہائشی کوٹلی آزاد کشمیر نے بتایا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے کام کرتا ہے اور پاکستان سے ڈالرز باہر بیچنے کا کاروبار کرتا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ کہ منی لانڈرنگ اور انسانی سمگلنگ کرنے والے لوگ نئے طریقے سے کام کرتے ہیں پاکستان میں میں لوگوں کو بتاتے ہیں کہ ہم جرمنی میں آپ کو کام دلوائیں گے اور وہاں پر جرمنی کا رہائشی ویزا بھی لے کر دیں گے جس پر لوگوں کو اعتماد لانے کے لیے پاکستان کے لوگوں کو بھی شامل کرتے ہیں اور اس کے بعد جرمنی میں مقیم رفیق احمد جعلی کاغذات بنا کر لوگوں کو جرمنی بلاتا ہے اور پھر ان کو فرار کروا دیتا ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہیں اور اس دھندے میں جو بھی لوگ ملوث ہیں ان کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ پاکستان میںجرمن سفارت خانے کو بھی آگاہ کیا گیا ہے تاکہ مزید کاروائی کو شواہد کی روشنی میں آگے بڑھایا جائے۔مقامی شہری نے اس حوالے سے ایف آئی اے پاکستان کو ایک درخواست بھی دی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ خالق احمد ولد میرزمان شناختی کارڈ نمبر 81202-3381164-5نے اسسٹنٹ کمشنر کوٹلی سے ایک اشٹام پیپر تصدیق کرواکے جرمن حکومت اور سفارت خانے کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی ہے اور یہ اشٹام پیپر مکمل طور پر جعلی ہے اسی طرح ایک اور شخص محمد معروف ولد چوہدری محمد یعقوب شناختی کارڈ نمبر81202-7770499-3رہائشی دمول پوسٹ آفس تحصیل و ضلع کوٹلی نے بھی اسی طرح کے اشٹام کے ذریعے جرمن حکومت اور سفارتخانے کو بھیجا ہے جس کے ذریعے ان دونوں اشخاص نے کہا ہے کہ ہم اپنے خرچے پر جرمنی جاکر یہ ثابت کرینگے کہ کروڑوں ڈالر جو ہم نے اپنے کزن محمد رفیق ولد محمد صدیق کو کاروبار کیلئے دئیے ہیں۔ایک اور اشٹام پیپر رفیق کے بھائی محمد عتیق ولد محمد صدیق شناختی کارڈ نمبر81202-6569570-3رہائش دمول تحصیل و ضلع کوٹلی نے جرمن حکومت اور سفارتخانے کو ایک ہی طرح کے اشٹام دئیے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تینوں افراد نے اشٹام پیپر کے ذریعے جو رقم اپنے کزن اور بھائی محمد رفیق جوکہ فرینکفرٹ میں ایک ہوٹل چلاتا ہے اسکو بھیجی ہے۔تینوں افراد نے فرینکفرٹ میں رفیق احمد کو رقم بھیجنے کا خود اعتراف کیا ہے اور اشٹام پیپر پر مقامی عدالت کے ذریعے اعتراف کیا ہے اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں اس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔مقامی شہری کی درخواست پر ایف آئی اے پاکستان نے تحقیقات شروع کردینگی اور امکان ہے کہ آئندہ چند روز میں صورتحال واضح ہوجائے گی۔ہم نے اس حوالے سے حقائق جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ معروف نامی شخص جس نے اشٹام پیپر دیا ہے اسکا کوٹلی دمول میں دیگیں پکانے کا کام ہے اور یہ اپنا گزربسر بڑی مشکل سے کررہا ہے۔اور دوسرا شخص اخلاق احمد دمول کوٹلی میں چرواہا ہے اور اس نے ایک کیری ڈبہ بناکر کرایہ پر بھی دیا ہوا ہے جس سے وہ اپنی زندگی بسر کررہا ہے جبکہ تیسرا شخص محمد عتیق جوکہ رفیق احمد کا حقیقی بھائی ہے چند سال قبل لندن گیا اور وہاں پر اس نے خودساختہ جلاوطنی کے دو سال گزارے پکڑے جانے پر اسے ملک بدر کردیا گیا اور واپس آکر اس نے لوگوں کو باہر جانے کا جھانسہ دینا شروع کردیا۔چند روز قبل اس نے کوٹلی کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں کام کرنیوالے نائب قاصد کو بھی جھانسہ دیا ہے کہ وہ جرمنی میں اسکوبھیجے گا اور اس کیلئے پیسوں کا بندوبست کرے اور اسی طرح بڑی مشکل سے زندگی گزاررہا ہے جبکہ رفیق جوکہ فرینکفرٹ کے نواح میں ایک ہوٹل چلاتا ہے وہ اسکو پیسے بھیجتا ہے اور سارا نیٹ ورک رفیق احمد جوکہ جرمنی ہے اسکے کہنے پر یہ کوٹلی اور دیگر علاقوں میں لوگوں کو باہر دینے کاکام چلاتا ہے۔اس حوالے سے جرمن سفارتخانے سے بھی رابطہ کیا گیا وہاں سے بھی یہ اطلاع ملی ہے کہ یہ لوگ کسی منی لانڈرنگ کا انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں تاہم اس حوالے سے جرمن پولیس تحقیقات کررہی ہے۔ان تینوں اشخاص کے اشٹام پیپر اور دیگر ڈاکومنٹ پاکستان میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کو فراہم کردئیے گئے ہیں اور اس پر باقاعدہ تحقیقات کی جارہی ہیں اور بتایا جارہا ہے کہ منی لانڈنگ اور حوالہ ہنڈی کا ایک بڑا نیٹ ورک پکڑے جانے کی شنید ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں