64

ٹرمپ شمالی کوریا کی سرزمین پر قدم رکھنے والے پہلے امریکی صدر بن گئے

پیانگ یانگ / سیئول: ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن سے جزیرہ نما کوریا کے غیر فوجی علاقے میں ملاقات کر کے شمالی کوریا کی سرزمین پر قدم رکھنے والے پہلے امریکی صدر بن گئے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  ہیلی کاپٹر کے ذریعے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول سے صدر مون جے اِن کے ہمراہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن سے ملاقات کرنے آج جزیرہ نما کوریا کے غیر فوجی علاقے پہنچے جہاں اُن کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے امریکی صدر کو خوش آمدید کہا اور دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ گرم جوشی سے مصافحہ کیا اورتصاویر بھی بنوائیں۔ دونوں رہنماؤں نے 20 منٹ ون ٹو ون ملاقات بھی کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

کم جونگ اُن سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے دو طرفہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا کی پرانی مذاکراتی ٹیم ہی اس بار بھی برقرار رہے گی جس کی سربراہی اسٹیفن بیگن نے کی تھی۔

شمالی کوریا کی جانب سے مذاکراتی ٹیم کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا ہے، شمالی کوریا کی مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن کم یونگ کول کے سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں قتل کی خبریں گرم تھیں تاہم شمالی کوریا نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آج میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شمالی کوریا کے مذاکراتی ٹیم کے رکن کے قتل کی خبر پر زیر لب تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ شمالی کوریا کے کم از کم ایک رکن کے زندہ ہونے کی مصدقہ اطلاع ہے اور ہم امید ہی کرسکتے ہیں کہ دیگر اراکین بھی زندہ ہوں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملاقات کے بعد جنوبی کوریا کے لیے روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے اوسان ایئر بیس پر تعینات امریکی فوج کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا کے صدر سے غیر متوقع ملاقات کو خوش آئند قرار دیا۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ امریکا کے لیے روانہ ہوگئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں