52

ورلڈ کپ 2019؛ ریکارڈز کےآئینےمیں

کہتے ہیں کہ ریکارڈز بنتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہیں،عالمی سطح پر نام کمانے اور زیادہ سے زیادہ ریکارڈز بنا کر ملک وقوم کا نام روشن کرنا ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے، اپنے انہیں خوابوں کی تکمیل کیلئے پلیئرز دن رات ایک کرتے ہیں اور اپنے اس مقصد میں کامیابی کی صورت میں کروڑوں شائقین کی آنکھوں کا تار ا بن جاتے ہیں۔ انگلینڈ میں جاری ورلڈ کپ میں شریک تمام 10 ٹیموں کے کھلاڑی بھی ٹرافی جیتنے کے ساتھ عالمی ریکارڈز بنانے کا عزم لئے میگا ایونٹ کا حصہ بنے۔

کچھ کھلاڑی اور ٹیمیں تو اپنے اس مقصد میں کامیاب بھی رہیں تاہم بعض ٹیمیں اور کھلاڑی ایسے بدقسمت بھی رہے، رسوائیاں اور ناکامیاں ہی ان کے حصہ میں آئیں۔ اپنے افتتاحی میچ میں گرین شرٹس نے اپنے ہی بہت سارے شرمناک ریکارڈز بھی توڑ ڈالے، مثال کے طور پر میچ کے دوران پاکستان کی پوری ٹیم 21.4اوورز میں پویلین رخصت ہو گئی جو ورلڈکپ کرکٹ کی تاریخ میں پاکستان کی گیندوں کے اعتبار سے سب سے چھوٹی اننگز تھی۔ 105 رنز ورلڈ کپ کی تاریخ میں پاکستان کا دوسرا کم ترین سکور رہا، اس سے قبل 1992 کے عالمی کپ میں گرین شرٹس صرف 74رنز پر ڈھیر ہو گئے تھے تاہم یہ میچ بارش کی نذر ہو گیا تھا۔

ورلڈ کپ کے ابتدائی سکواڈ میں ڈراپ ہونے والے فاسٹ بولر وہاب ریاض میگا ایونٹ کے دوران حریف ٹیموں کے بیٹسمینوں کو تگنی کا ناچ نچانے کے ساتھ بڑے ریکارڈز بھی بنانے میں کامیاب رہے۔انہوں نے ورلڈ کپ میں مجموعی وکٹوں کی تعداد 35 کرکے سابق کپتان عمران خان کو پیچھے چھوڑنے کا کارنامہ انجام دیا۔اسی طرح ابھرتے ہوئے نوجوان فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کسی ورلڈ کپ میچ میں 4 وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے انڈر 20 بولر بنے ، پاکستانی پیسر اپنے ڈیبیو کے بعد اسٹرائیک ریٹ میں دوسرے نمبر پر رہے، نیوزی لینڈ کے لوکی فرگوسن نے 23.8 کے اسٹرائیک ریٹ سے وکٹیں حاصل کیں، شاہین آفریدی کا 25.4 رہا۔بیٹنگ میں بابر اعظم نے ورلڈ کپ میں 350 سے زائد رنز بنانے والے پاکستانی کرکٹرز کی فہرست میں اپنا نام درج کروایا۔ بابر اعظم ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین 3 ہزار رنز مکمل کرنے والوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر رہنے کا اعزاز بھی حاصل کیا، نیوزی لینڈ کے خلاف شاندار اننگز کھیلنے والے بیٹسمین نے یہ سنگ میل 68 اننگز میں عبور کیا،بابر اعظم 32 سال بعد ورلڈ کپ میچ میں سنچری بنانے والے پہلے پاکستانی مڈل آرڈر بیٹسمین بھی بنے۔

ورلڈ کپ میں پاکستان کے علاوہ دیگر ٹیموں کی بات کی جائے تو انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں کبھی بھی عالمی چیمپئن بننے میں کامیاب نہیں رہیں، ورلڈکپ 1992کے فائنل میں انگلینڈ کو پاکستان سے شکست ہوئی تھی، اس کے بعد 27 سال میں ٹیم کبھی کوارٹر فائنل مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔سری لنکن فاسٹ بولر لسیتھ مالنگا نے ورلڈ کپ میں وکٹوں کی تیز ترین ففٹی کا ریکارڈ اپنے نام کیا، لیستھ مالنگا نے انگلینڈ کے خلاف43 رنز کے عوض 4 وکٹیں لے کرٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا تھا، وہ ورلڈ کپ میں وکٹوں کی ففٹی مکمل کرنے والے دوسرے سری لنکن ہیں، مالنگا میگا ایونٹ کے اپنے 26 میچز میں اس سنگ میل پر پہنچے۔

جوئے روٹ ورلڈ کپ میں 3 سنچریاں سکور کرنے والے انگلینڈ کے پہلے کرکٹر بننے میں کامیاب رہے۔ ورلڈ کپ کے دوران سب سے زیادہ رنز بنانے کا اعزاز انگلینڈ کے نام رہا، میزبان ٹیم نے افغانستان کے خلاف مانچسٹر میں 6کٹوں پر 397 رنز بنانے کا منفرد ریکارڈ قائم کیا ۔ انگلینڈ ہی نے مانچسٹر ہی کے مقام پر افغانستان کے خلاف 150 رنز سے فتح حاصل کر کے ریکارڈ قائم کیا۔ ایک میچ میں سب سے زیادہ35 ایکسٹرا رنز سری لنکا نے افغانستان کے خلاف دیئے۔ ورلڈ کپ کے دوران ٹیموں اور کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کی بات کی جائے تو آسٹریلیا کے وارنر انفرادی اننگز میں 166 رنز کے ساتھ ٹاپ پر ہیں۔ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ 5 سنیچریاں بنانے کا اعزاز بھارتی شرما کے نام رہا، سب سے زیادہ 22چھکے لگانے کا اعزاز انگلینڈ کے مورگن جبکہ سب سے زیادہ 27وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز آسٹریلیا کے سٹارک کے نام رہا۔آسٹریلیا کے وکٹ کیپر کیرے نے وکٹ کے پیچھے20 شکار کئے جبکہ سب سے زیادہ 12 کیچز پکڑنے کا کارنامہ انگلینڈ کے جوئے روٹ نے انجام دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں