37

انضمام الحق کو 3 سالہ دور میں 6 کروڑ روپے سے زائد رقم ملی

کراچی: انضمام الحق نے اپنے تین سالہ دور میں6 کروڑ روپے سے زائد رقم وصول لی مگر اپنے دعوے کے برخلاف پاکستان کرکٹ کو زیادہ نیا ٹیلنٹ نہ دے سکے۔

انضمام الحق نے اپریل 2016 میں چیف سلیکٹر کی ذمہ داری سنبھالی، ورلڈکپ کے پیش نظر ان کے معاہدے میں 3ماہ کی توسیع ہوئی، انھیں 12 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ کے ساتھ دیگر مراعات دی گئیں، معاہدے کے تحت انضمام کو ٹیم کی کسی سیریز میں فتح پر معاوضے کا 25 فیصد اور آئی سی سی ایونٹ جیتنے پر 100 فیصد حصہ ملتا تھا۔

چیمپئنز ٹرافی کی کامیابی پر انھیں حکومت سے بھی ایک کروڑ روپے کی انعامی رقم ملی تھی، یوں ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً6 کروڑ روپے سے زائد ان کے اکائونٹ میں منتقل ہوئے۔

دوسری جانب ان کا دور متنازع رہا، دیگر سلیکٹرز توصیف احمد، وجاہت اﷲ واسطی اور وسیم حیدر کی حیثیت ڈمی جیسی تھی، انضمام پر سب سے زیادہ تنقید بھتیجے امام الحق کو دیگر کھلاڑیوں پر فوقیت دے کر قبل از وقت قومی ٹیم میں شامل کرنے پر ہوئی، بعد میں بھی ان پر الزام لگتے رہے کہ وہ امام کا کیریئر بنانے کیلیے مختلف جوڑتوڑ کرتے رہے۔

فواد عالم اور خرم منظور سمیت کئی کرکٹرز کے کیریئر تباہ کرنے کا الزام بھی عائد ہوا، گوکہ وہ کئی کھلاڑیوں کو مواقع دینے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ان میں سے زیادہ تر پی ایس ایل کے ذریعے ہی نمایاں ہو چکے تھے،ٹیم کو اب بھی اوپننگ، اسپن اور آل رائونڈرز کے شعبے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

گرین شرٹس کے ہر اہم غیرملکی دورے میں جانے پر وہ تنقید کی زد میں آئے، ورلڈکپ میں بھارت کیخلاف میچ تک انضمام ٹور سلیکشن کمیٹی کا حصہ رہے جس سے کپتان اور کوچ ناخوش تھے، ٹیم کے ٹریننگ سیشنز میں کھلاڑیوں کو ان کے مشورے بھی کوچنگ اسٹاف کو ایک آنکھ نہ بھائے،اس دورے میں انھیں 500ڈالر یومیہ دیے گئے۔

گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے ورلڈکپ میں شکست پر کپتان سرفراز احمد کی طرح قوم سے معذرت نہیں کی بلکہ ٹیم کی کارکردگی کو اچھا قرار دیتے رہے،اب انضمام کسی اور پوسٹ کو پانے کیلیے کوشاں ہیں،پی سی بی نے انھیں اس حوالے سے کوئی آس بھی دلا دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں