67

اکستان کا دہلی افطار ڈنر میں مہمانوں کو ہراساں کرنے پر بھارت سے احتجاج

نئی دلی کے سفارت خانے میں 28 مئی کو  پاکستانی ہائی کمشنر نے حسب روایت افطار ڈنر کا اہتمام کیا تھا، اس موقع پر بھارتی سیکیورٹی اہلکاروں نے سفارتی آداب کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے نا صرف ہائی کمیشن کا محاصرہ کرلیا تھا بلکہ مہمانوں کی تلاشی کے نام پر بےعزتی کی گئی اور انہیں ہراساں کیا گیا۔

پاکستان نے بھارت کے غیر سفارتی اقدام کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے یہ معاملہ سفارتی سطح پر اُٹھانے کا فیصلہ کیا اور بھارت کو ایک احتجاجی مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے افطار ڈنر کے شرکاء بالخصوص کشمیری مہمانوں کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے تلاشی لی، تصاویر اتاریں اور ہراساں کیا گیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں : پاکستان ہائی کمیشن کے افطار ڈنر میں بھارتی حکام نے سفارتی دھجیاں بکھیردیں

مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کشمیری مہمانوں کو افطار ڈنر میں شرکت کرنے پر گرفتار کرنے کی دھمکیاں بھی دیں، یہی اوچھے ہتھکنڈے 22 مارچ کو ہونے والی تقریب میں بھی اپنائے گئے تھے اور اس وقت بھی احتجاج کیا گیا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی اور روش پر قائم ہے۔

پاکستان نے احتجاجی مراسلے میں موقف اختیار کیا کہ بھارت کا غیر سفارتی رویہ قابل مذمت اور ویانا کنونشن کی سراسر خلاف ورزی ہے، مراسلے میں بھارت سے اس قسم کے واقعات کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں