163

اشتعال انگیز تقریر مقدمہ، ایم کیو ایم رہنماؤں کی عدالت میں پیشی

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما عامر خان سمیت دیگر بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقریر کے حوالے سے دائر مقدمے میں انسداد دہشت عدالت میں پیش ہوئے۔
انسدادہشت گردی عدالت کے فاضل جج کے رخصت کے باعث بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقاریرسے 4 مقدمات کی سماعت نہ ہوسکی اور سماعت کو 21 دسمبر تک ملتوی کردیا گیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے سابق کنوینر فاروق ستار بھی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے ان کے علاوہ عامر خان، ریحان ہاشمی، منصور، وسیم اختر اور روف صدیقی و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔
ایم کیو ایم رہنماؤں کے خلاف چاروں مقدمات عزیز آباد، سچل برگیڈیئر و دیگر تھانوں میں درج ہیں۔
مزید پڑھیں:اشتعال انگیز تقریر:فاروق ستار،وسیم اختر و دیگر ایم کیو ایم رہنماؤں پر فرد جرم عائد
انسداد دہشت گردی عدالت نے ایم کیو ایم رہنماؤں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کے دیگر 21 مقدمات کی سماعت 30 نومبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 22 اگست 2016 کو ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف تقریر اور میڈیا ہاؤس پر حملوں میں سہولت کاری پر فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی اور عامر لیاقت حسین سمیت دیگر پر کراچی کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے اور عدالت نے متعدد رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔
بعد ازاں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 23 اکتوبر 2018 کو اشتعال انگیز تقاریر کے 21 مقدمات میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں پر فرد جرم عائد کردی تھی۔
ایم کیو ایم وفاق حکومت سے مایوس ہے، عامرخان
ایم کیو ایم کے سینئر رہنما عامر خان نے عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم وفاقی حکومت سے مایوس ہے کیونکہ وزیر اعظم نے کراچی کے لیے 162 ارب کا اعلان کیا مگر ابھی تک وعدہ وفا نہ ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی پورے ملک کو چلا رہا ہے اور ہم کراچی کے مسائل سے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کو آگاہ کرتے رہتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین صوبائی و قومی اسمبلی کراچی سے منتخب ہوئے ہیں لیکن انہوں نے کراچی کو کیا دیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایم کیو ایم کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کیس، عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا
عامر خان نے کہا کہ میئر کراچی کے پاس اختیارات نہیں ہیں، وہ گریڈ ایک سے لے کر 4 گریڈ تک بھی کسی کو نوکری نہیں دے سکتا اور اگر مئیر کے پاس اختیارات ہی نہیں تو وہ کام کیسے کریں گے۔
پاکستان پیپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے لیکن سندھ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہر میں سیوریج کاکوئی نظام نہیں کتوں کے کاٹنے اور پولیو کے کیسز سامنے آ رہے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں ادویات نہیں ہیں اور نہ کتوں کے کاٹنے کی ویکسین موجود ہے۔
عامر خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن قابل احترام اور پاکستان کی سیاست کے اہم کردار ہیں، مولانا صاحب کا پلان اے بھی کامیاب ہوا تھا اور پلان بی میں بھی پر امن انداز اختیار کر رکھا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں