65

فوڈ سپلیمنٹس صحت پر خاطر خواہ اثرات مرتب نہیں کرتے، تحقیق

بالٹی مور: دنیا بھر میں سیکڑوں کمپنیاں ہزاروں اقسام کے مہنگے ’’فوڈ سپلیمنٹس‘‘ فروخت کررہی ہیں جنہیں وہ ’’غذائیت سے بھرپور‘‘ قرار دیتی ہیں اور انہیں عام غذا کے ساتھ استعمال کرنے کے ان گنت فائدے گنواتی ہیں۔ لیکن ایک تازہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے فوڈ سپلیمنٹس کے بارے میں کیے جانے والے ایسے بیشتر دعووں میں کوئی سچائی نہیں ہوتی۔

جان ہاپکنز میڈیسن، بالٹیمور کے ماہرین نے جب 277 کلینیکل ٹرائلز اور دوسرے 24 مطالعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا (جن میں دنیا بھر سے 992,129 رضاکار شریک ہوئے تھے) تو معلوم ہوا کہ زیادہ تر فوڈ سپلیمنٹس کے استعمال کا نہ تو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی کوئی نقصان۔

یعنی کمپنیوں کے دعووں کے برعکس، فوڈ سپلیمنٹس سے کچھ نہیں ہوتا۔ البتہ، اس تجزیئے کے دوران معلوم ہوا کہ کم نمک والی غذا، اومیگا تھری فوڈ سپلیمنٹس اور فولک ایسڈ فوڈ سپلیمنٹس استعمال کرنے والوں کی صحت میں معمولی سی بہتری ضرور آئی لیکن اسے ’’انقلابی فائدہ‘‘ ہر گز قرار نہیں دیا جاسکتا۔

علاوہ ازیں ملٹی وٹامنز، معدنیات (منرلز) اور ’’اہم غذائی اجزاء سے بھرپور‘‘ اکثر فوڈ سپلیمنٹس کے استعمال سے نہ تو لمبی عمر حاصل ہوتی ہے اور نہ ہی دل کی بیماریوں میں کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے برعکس وہ فوڈ سپلیمنٹس جن میں کیلشیم اور وٹامن ڈی ایک ساتھ موجود ہوتے ہیں، ان کے استعمال سے فالج کے خطرے میں اضافہ ضرور دیکھا گیا۔

اس مطالعے کے سینئر مصنف، ڈاکٹر ایرن میکوس کہتے ہیں، ’’لوگ غذائی سپلیمنٹس میں جس جادوئی گولی کی تلاش میں رہتے ہیں، اس کا کوئی وجود ہی نہیں!‘‘ ان کے مطابق، لوگوں کو چاہیے کہ فوڈ سپلیمنٹس کے بجائے صحت بخش غذا اور صحت مندانہ طرزِ زندگی پر توجہ دیں کیونکہ ان ہی کے نتائج حقیقی اور دیرپا ہوتے ہیں۔

اس تجزیئے کے نتائج ’’اینلز آف انٹرنل میڈیسن‘‘ کے حالیہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں