65

آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت پاکستان بھر میں اضافی اسپیکٹرم نیلامی کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل

حکومت پاکستان
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن

آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت پاکستان بھر میں اضافی اسپیکٹرم نیلامی کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل
ٹیلی کام ایکٹ 1996 کے تحت دستیاب ریڈیوفریکوینسی 1800 اور 2100 میگاہرڈز میں نیلامی ہوگی، امین الحق

اسلام آباد: ( بدھ، 28 جولائی، 2021)
وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکشن نےآزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت پاکستان بھرکیلئے اضافی اسپیکٹرم نیلامی کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں وفاقی کابینہ اپنےمنگل کےاجلاس میں اسپیکٹرم نیلامی کی منظوری دےچکی ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزیرآئی ٹی و ٹیلی کام سیدامین الحق کا کہنا ہےکہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کشمیر و گلگت کیلئےاضافی اسپیکٹرم کی نیلامی ہورہی ہے، اس مرحلے کی تکمیل کے بعد نہ صرف ملک بھر کے مضافاتی و شہری علاقوں میں بلکہ آزاد کشمیر و گلگت کے پہاڑی علاقوں میں بھی موبائل نیٹ ورکنگ اور براڈ بینڈ سروسز کے معیار میں بہترین اضافہ ہوگا اور صارفین کو بلاتعطل سروسز میسر ہوں گی۔
سید امین الحق کے مطابق دستیاب ریڈیو فریکوینسی 1800 اور 2100 میگاہرڈز کیلئے اضافی اسپیکٹرم کے ایک میگاہرڈز پیئر کی پاکستان کیلئے ابتدائی قیمت بالترتیب 29 اور 31 ملین امریکی ڈالرز رکھی گئی ہے جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے ایک میگاہرڈز پیئر کی ابتدائی قیمت 8 لاکھ 70 ہزار ڈالر ہے، امید ہے کہ اضافی اسپیکٹرم کی نیلامی سے اربوں روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جاسکیں گے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد ستمبر کے آخر تک نیلامی کا عمل ہر صورت مکمل کیا جائے گا اس ضمن میں نیلامی کی تیاریوں اور دیگر امور کو حتمی شکل دینے کیلئے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔ یاد رہے اسپیکٹرم وہ ریڈیو فریکوینسی ہوتی ہے جو موبائل و کمیونیکشن کمپنیوں کو حکومت کی جانب سے الاٹ کی جاتی ہے جس کے ذریعے موبائل و انٹرنیٹ سروسز صارفین تک پہنچائی ہیں۔ جبکہ اضافی اسپیکٹرم کا مطلب اس کی طاقت و قوت اور پہلے سے موجود صارفین کے علاوہ نئے صارفین کا اضافہ اور بہتر سگنلز و اعلیٰ سروسز کی فراہمی ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی نے مزید کہا کہ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کا ہدف وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی تکمیل ہے جس کیلئے بنیادی ضرورت ملک کے طول و عرض میں معیاری موبائل و براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی ہے اس مد میں 32 ارب روپے کے نیٹ ورکنگ پراجیکٹس زیر تکمیل ہیں جبکہ آن لائن سرگرمیوں میں اضافے کیلئے ایک جانب آئی ٹی کے حوالے سے انقلابی اقدامات کیئے جارہے ہیں تو دوسری جانب شہریوں اور قومی اداروں کے آن لائن ڈیٹا اور اہم معلومات کو محفوظ رکھنے کیلئے نیشنل سائبر سیکیورٹی پالیسی تیار کی گئی ہے۔ سید امین الحق کا کہنا تھا کہ صدر اور وزیر اعظم کا وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن پر مکمل اعتماد ہے کیونکہ یہی وہ واحد سیکٹر ہے جو ملک کی معیشت کے استحکام اور لاکھوں کی تعداد میں باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے صرف ایک برس کے عرصے میں آئی ٹی برآمدات میں 47 فیصد اضافے کے ساتھ 2 ارب 12 کروڑ ڈالرز سے زائد کی برآمدات اس کی ایک مثال ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں